تشبیہ ترے چہرے کو کیا دوں گل تر سے ہوتا ہے شگفتہ مگر اتنا نہیں ہوتا

“How could I liken your face to a fresh-bloomed rose? It does blossom, surely, but never quite like this.”

— اکبر الہ آبادی
معنی

میں تمہارے چہرے کو تازہ گلاب سے کیا تشبیہ دوں؟ گلاب کھلتا تو ضرور ہے مگر اتنا نہیں جتنا تمہارا چہرہ کھلتا ہے۔

تشریح

شاعر اپنے محبوب کے حسن کی تعریف روایتی تشبیہات سے ہٹ کر ایک نہایت دلکش اور بے ساختہ انداز میں کر رہا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ شبنم سے نہایا تازہ گلاب بلاشبہ کھلتا اور مہکتا ہے، مگر اس میں وہ تابانی اور معصوم شوخی کہاں جو تمہارے چہرے پر رقصاں ہے۔ محبت میں ڈوبا یہ شعر بتاتا ہے کہ عاشق کی نظر میں محبوب کے نکھار کے آگے قدرت کا سب سے دلکش شاہکار بھی ماند پڑ جاتا ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.