“May God protect the heart from the malady of love; they say this affliction never ends well.”
اللہ دل کو محبت کے مرض سے بچائے، کیونکہ سنا ہے کہ یہ بیماری اچھی نہیں ہوتی۔
اس شعر میں شاعر نے محبت کو محض ایک جذبہ نہیں بلکہ ایک لاعلاج روگ اور بیماری کے طور پر پیش کیا ہے۔ وہ بڑی معصومیت اور دلکش سادگی سے دعا مانگتے ہیں کہ خدا دل کو اس فتنے سے دور رکھے، کیونکہ دنیا والے کہتے ہیں کہ اس مرض کا انجام کبھی اچھا نہیں ہوتا۔ بظاہر یہ ایک سادہ سا ڈر اور احتیاط ہے، مگر اس کے پس پردہ عشق کی اس جان لیوا کشش اور بے بس کر دینے والے درد کی جھلک ہے جس کا شکار ہونے سے کوئی نہیں بچ پاتا۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
