“Though in the court of God I make no claim to piety, yet I am not such a sinner that idols would rejoice in me.”
اگرچہ بارگاہِ الٰہی میں مجھے اپنی پرہیزگاری کا کوئی دعویٰ نہیں ہے، لیکن میں ایسا گناہ گار بھی نہیں ہوں جس سے بت خوش ہو جائیں۔
اس شعر میں شاعر عاجزی اور خودداری کا ایک لاجواب توازن پیش کرتا ہے۔ وہ خدا کے حضور پارسائی اور زہد کا کوئی بڑا دعویٰ نہیں کرتا، مگر ساتھ ہی یہ فخر بھی رکھتا ہے کہ وہ دنیا کے بتوں کو خوش کرنے کے لیے اتنا نہیں گرا کہ اپنا وقار کھو دے۔ یہ ایک ایسے انسان کی آواز ہے جو اپنی خطاؤں سے باخبر ہے، لیکن اس کے باطن میں اتنی غیرت باقی ہے کہ وہ غیروں کے آگے سجدہ ریز نہیں ہوتا۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
