“My melancholy and frailty know no bounds, Akbar; even before an infidel, I am not a man of faith.”
اے اکبر، میری اداسی اور کمزوری کی کوئی حد نہیں رہی، یہاں تک کہ کسی کافر کے سامنے بھی میں خود کو دین دار ثابت نہیں کر پا رہا ہوں۔
اکبر الہٰ آبادی اس شعر میں اپنی بے پناہ اداسی، جسمانی کمزوری اور روحانی بے حسی کا دکھ بیان کر رہے ہیں۔ عام طور پر کسی کافر کے سامنے ایک عام شخص میں بھی اپنی دین داری اور غیرت کا جوش بیدار ہو جاتا ہے، مگر شاعر خود کو اتنا مضمحل محسوس کرتا ہے کہ اس میں یہ جذبہ بھی باقی نہیں رہا۔ یہ دراصل اندرونی شکست و ریخت، مایوسی اور روح کے اس کھوکھلے پن کا دردناک اعتراف ہے جہاں انسان اپنی شناخت کا مان بھی کھو بیٹھتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
