“O Lord, keep me safe from the cruelty of that idol; I am no seeker of her favor and grace.”
اے خدا، مجھے اس محبوب کے ظلم و ستم سے محفوظ رکھ، مجھے تو اس کی عنایت اور مہربانی کی بھی کوئی خواہش نہیں ہے۔
اس شعر میں شاعر نے اپنے بے پروا اور سنگ دل محبوب کو 'بت' قرار دیا ہے، جو حسن کا پیکر تو ہے مگر احساس سے بالکل عاری ہے۔ روایتی شاعری میں عاشق ہمیشہ محبوب کی عنایت اور نظرِ کرم کا متلاشی رہتا ہے، مگر یہاں وہ ستم سہتے سہتے اس نہج پر آ پہنچا ہے کہ اب اسے محبت کا کوئی انعام نہیں چاہیے۔ وہ بس خدا سے اس اذیت سے نجات اور پناہ مانگ رہا ہے، جو دل کی گہری بیزاری اور دردناک تھکن کا دلکش اظہار ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
