“I am that rose which autumn has laid waste; no thorn am I to cling to any hem.”
میں وہ پھول ہوں جسے خزاں نے برباد کر دیا ہے، میں وہ کانٹا نہیں ہوں جو کسی کے دامن سے الجھ جائے۔
شاعر نے اس شعر میں خزاں رسیدہ پھول اور خار کے تضاد سے اپنی خودداری اور وقار کا دلکش نقشہ کھینچا ہے۔ گردشِ ایام اور دکھوں نے اگرچہ ان کی شادابی چھین کر انہیں ویران کر دیا ہے، مگر وہ کسی کانٹے کی طرح دوسروں کے دامن گیر ہو کر بوجھ نہیں بننا چاہتے۔ یہ تباہی اور شکست کے عالم میں بھی اپنی انا، خلوص اور شرافت کو برقرار رکھنے کا ایک باوقار اعلان ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
