“Chastened by life's sobering truths, no remedy do I require; this frailty is born of sorrow, I am not truly ill.”
میں عبرت کے سبب اداس ہوں اور مجھے دوا کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ مجھ پر یہ کمزوری غم کی وجہ سے ہے، میں بیمار نہیں ہوں۔
شاعر یہاں تیمار داروں سے مخاطب ہے جو اس کی کمزوری دیکھ کر دوا کی فکر کر رہے ہیں، اور نرمی سے سمجھاتا ہے کہ اس کا نحیف بدن کسی جسمانی بیماری کا شکار نہیں۔ دراصل دنیا کے تلخ حقائق اور عبرت انگیز تجربات کے غم نے اس کی جان نچوڑ لی ہے۔ جب اداسی اور بے ثباتی کا احساس روح میں اتر جائے، تو اس باطنی تھکن کا علاج کسی طبیب کے پاس نہیں ہوتا۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
