“I shall pass unstained through this abode of existence; I am merely a passing shadow, not a carving etched upon the wall.”
میں زندگی کے اس گھر سے بالکل بے داغ اور لاتعلق ہو کر گزر جاؤں گا۔ میں محض ایک سایہ ہوں، دیوار پر کھدی ہوئی کوئی مستقل تصویر نہیں۔
شاعر اس خوبصورت شعر میں دنیا کی بے ثباتی اور ایک درویشانہ بے نیازی کا اظہار کر رہے ہیں۔ وہ خود کو دیوار پر کھدی ہوئی کوئی مستقل تصویر نہیں بلکہ بس ایک گزرتا ہوا سایہ قرار دیتے ہیں، جس کا اس فانی جہاں کے ساتھ کوئی پائیدار بندھن نہیں۔ ان کا مقصد اس زندگی میں رہتے ہوئے بھی دنیا کی آلائشوں اور داغوں سے اپنا دامن بالکل پاک اور بے لوث رکھنا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
