“When Sayyid stepped forth bearing the Gazette, he brought back millions untold; The Sheikh went round displaying the Quran, yet could not earn a penny in gold.”
سر سید جب سرکاری گزٹ لے کر نکلے تو لاکھوں روپے جمع کر لائے، جبکہ شیخ صاحب قرآن دکھاتے پھرے مگر انہیں ایک پیسہ بھی نہ ملا۔
اکبر الہ آبادی نے اپنے مخصوص طنزیہ اور شگفتہ انداز میں اس شعر میں بدلتے ہوئے زمانے کا نقشہ کھینچا ہے۔ یہاں ’سید‘ (سر سید احمد خان) جدید مغربی تعلیم اور سرکاری نظام کی علامت ہیں جن کی عملی بصیرت کو دنیاوی پذیرائی اور لاکھوں کے فنڈز ملے، جبکہ روایتی ’شیخ‘ محض دین کا حوالہ دے کر بھی خالی ہاتھ رہے۔ دراصل اکبر اس مادیت پسند دور کی سچی تصویر دکھاتے ہیں جہاں جدید نظام اور دنیاوی فائدے کے آگے روحانی قدروں کی وقعت گھٹ چکی تھی۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
