“The college kept intact the outward color of his face, yet in the colors of the soul, the son matched not the father.”
کالج نے بیٹے کے چہرے کا ظاہری رنگ روپ تو برقرار رکھا، لیکن باطنی سیرت و کردار میں وہ اپنے باپ جیسا نہ رہا۔
اکبر الہٰ آبادی کا یہ شعر جدید تعلیمی نظام اور اس کے نتیجے میں کھو جانے والی روایات پر ایک کاٹ دار طنز ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ کالج نے نوجوان کی ظاہری چمک دمک اور چہرے کی تازگی تو قائم رکھی، لیکن اس کے باطن یعنی روحانی اور اخلاقی جوہر کو مٹا دیا۔ یوں بیٹا شکل و صورت میں تو اپنے خاندان جیسا ہی رہا، مگر فکر اور کردار میں اپنے باپ دادا کی اقدار سے بالکل بیگانہ ہو گیا۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
