ہونی نہ چاہئے تھی محبت مگر ہوئی پڑنا نہ چاہئے تھا غضب میں مگر پڑے

“Love ought never to have happened, yet happen it did; into this ruin we should never have fallen, yet fall we did.”

— اکبر الہ آبادی
معنی

محبت نہیں ہونی چاہیے تھی لیکن ہو گئی، اور ہمیں اس آفت یا مصیبت میں نہیں پڑنا چاہیے تھا مگر ہم پڑ ہی گئے۔

تشریح

اس شعر میں دل کی بے بسی اور تقدیر کے آگے سر تسلیم خم کرنے کی بڑی پُراثر تصویر کشی کی گئی ہے۔ شاعر عقل کی روشنی میں خوب جانتا تھا کہ محبت کی راہ صرف آفت اور پریشانی کی طرف لے جاتی ہے، مگر دل کے ہاتھوں وہ لاچار ہو گیا۔ یہ ایک ایسا دردمندانہ اعتراف ہے جس میں انسان جانتے بوجھتے ہوئے بھی خود کو عشق کے طوفان میں جھونک دیتا ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.