ہم چاہتے ہیں میل وجود و عدم میں ہو ممکن تو ہے جو بیچ میں ان کی کمر پڑے

“We yearn to see existence and nothingness unite; / 'Tis possible indeed, should her slender waist come in between.”

— اکبر الہ آبادی
معنی

ہم چاہتے ہیں کہ ہستی اور عدم کا باہم ملاپ ہو جائے، اور یہ تبھی ممکن ہو سکتا ہے جب ان دونوں کے درمیان محبوب کی نازک کمر آ جائے۔

تشریح

اردو شاعری کی روایتی شوخی اور نکتہ آفرینی کی یہ ایک دلکش مثال ہے، جہاں محبوب کی کمر کو اس قدر باریک اور نازک مانا جاتا ہے کہ وہ معدوم سی معلوم ہوتی ہے۔ شاعر مسکرا کر کہتا ہے کہ اگر ہستی (وجود) اور نیستی (عدم) کا ملاپ کرانا ہو، تو محبوب کی کمر ہی وہ واحد وسیلہ بن سکتی ہے۔ یہ شوخ اور علامتی مبالغہ دراصل محبوب کی بے مثال نزاکت کو ایک فلسفیانہ انداز میں سراہنے کا خوبصورت انداز ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.