“Even if God grants His pardon, the preacher will not let go; The police are sure to haul you in, whether punished or no.”
اگر خدا معاف بھی کر دے تو مولوی صاحب نہیں چھوڑیں گے، بالکل اسی طرح جیسے سزا ملے یا نہ ملے، پولیس والے تو انسان کو گھیر ہی لیں گے۔
یہ شعر معاشرے کے خود ساختہ ٹھیکیداروں اور ریاستی نظام پر ایک نہایت چٹخارے دار اور برمحل طنز ہے۔ شاعر مسکرا کر کہتا ہے کہ خدا تو شاید اپنی بے پایاں رحمت سے بندے کو معاف بھی کر دے، مگر مولوی صاحب کا فتویٰ اور پولیس کا شکنجہ انسان کا پیچھا کبھی نہیں چھوڑتا۔ اس شوخ بیانی کے پردے میں دراصل یہ تلخ حقیقت چھپی ہے کہ انسانوں کی بنائی ہوئی عدالتیں خدا کی بے حساب بخشش سے کہیں زیادہ بے رحم ہوتی ہیں۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
