“Ensnared within the coils of your locks, my heart lies utterly undone; show a little kindness, I beg, to the plight of this helpless one.”
آپ کی زلف کے حلقے میں میرا دل بالکل بے بس اور لاچار ہے۔ اس بے سہارا کے حال پر ذرا مہربانی اور رحم فرمائیے۔
شاعر نے محبوب کی زلفوں کے حلقوں کو ایک ایسے دلکش جال کے طور پر پیش کیا ہے جس میں دل بری طرح الجھ کر بے بس اور لاچار ہو چکا ہے۔ ’بے سر و پا‘ اس کیفیت کا اظہار ہے جہاں انسان اپنا ہوش و حواس اور ٹھکانا سب گنوا بیٹھے اور خود پر کوئی اختیار نہ رہے۔ ایسے میں عاشق بڑی عاجزی اور تڑپ کے ساتھ التجا کرتا ہے کہ اس کی اس کسمپرسی اور اسیری پر محبوب بس تھوڑی سی نظرِ کرم فرما دے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
