“How could I ever renounce meeting my beloved, when such captivating grace strips all my will away?”
میں اپنے محبوب سے ملنا کیسے چھوڑ دوں، جبکہ اس کی دلربائی اور ادائیں میرا سارا اختیار مجھ سے چھین لیتی ہیں۔
اس شعر میں شاعر محبت کی اس میٹھی بے اختیاری کا احوال بیان کر رہے ہیں جہاں انسان کا اپنی مرضی پر کوئی قابو نہیں رہتا۔ محبوب کی دلربائی اور اس کا سحر انگیز انداز عاشق کے ہوش و حواس اور سارا اختیار چھین لیتا ہے۔ جب دل مکمل طور پر حسن کے آگے ہتھیار ڈال چکا ہو، تو پھر محبوب سے ملنا چھوڑ دینے کا ارادہ کرنا بھی ناممکن ہو جاتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
