“My heart knows not the price of your alluring gait; O proud, coquettish beauty, reveal your price and state!”
میرا دل تمہاری خوبصورت چال کی قیمت سے باخبر نہیں ہے؛ اے ناز و انداز والی شوخ محبوبہ، ذرا اس کا بھاؤ تو بتاتی جاؤ۔
دکنی شاعری کے اس دلکش شعر میں عاشق محبوب کی شوخ اور پُرکشش چال پر فدا ہو کر خود کو ایک معصوم خریدار کی طرح پیش کر رہا ہے۔ وہ ناز و نخرے سے بھری اس چنچل حسینہ سے لاڈ اور شرارت سے کہتا ہے کہ میرا دل تیری اس مستانہ چال کی قیمت سے ناواقف ہے، ذرا ٹھہر کر اپنا بھاؤ تو بتاتی جا۔ یہاں حسن کی بے نیازی اور عاشق کی چھیڑ چھاڑ کا ایسا خوبصورت ملاپ ہے، جہاں لفظ 'بھاؤ' صرف قیمت نہیں بلکہ محبوب کے تیور اور دلفریب انداز کو بھی ظاہر کرتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
