“The wild gazelle perfects the art of her longing gaze, mistaking the soft down upon your cheek for fragrant sweet basil.”
ہرنی آپ کے چہرے کے خط (سبزۂ رخسار) کو خطِ ریحان سمجھ کر مسلسل دیدار کرنے کی مشق کرتی ہے۔
شاعر نے محبوب کے رخسار پر اُبھرنے والے نازک خط (ہلکے روؤں) کی بڑی دل چسپ اور پرلطف تصویر کھینچی ہے۔ ہرنی، جو اپنی پرکشش اور حیران آنکھوں کے لیے جانی جاتی ہے، محبوب کے چہرے کو ٹکٹکی باندھ کر اس لیے دیکھ رہی ہے کہ وہ اس کے نوخیز خط کو خوشبودار سبزہ یعنی ریحاں سمجھ بیٹھی ہے۔ یہاں 'خطِ ریحاں' کا خوبصورت ذومعنی پہلو بھی چھپا ہے، جو سبزے کے ساتھ ساتھ ایک دلکش طرزِ خطاطی بھی ہے۔ یہ شوخ اور معصومانہ خیال دراصل محبوب کے جادوئی حسن کو داد دینے کا کلاسک انداز ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
