“What faithful lovers they are indeed, that upon meeting, they bid their very hearts farewell.”
وہ کیسے وفادار ہیں کہ ملتے وقت بھی اپنے دل ہی سے ناطہ توڑ لیتے ہیں اور اسے الوداع کہہ دیتے ہیں۔
اس شعر میں شاعر نے طنز کے لطیف پیرائے میں بظاہر مخلص مگر اندر سے بے نیاز رویوں کی خوبصورت عکاسی کی ہے۔ کہنے کو تو لوگ خود کو وفادار ثابت کرتے ہیں، مگر روبرو ہوتے ہی سچے جذبوں سے دامن چھڑا کر دل کو ہی الوداع کہہ دیتے ہیں۔ یہ رسمی میل جول اور بے دلی کا ایک نہایت گہرا دکھ ہے، جہاں ملاقاتیں تو ہوتی ہیں مگر دلی اپنائیت غائب رہتی ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
