“Whoever penned the tale of my pale and sallow hue, was gifted from the Unseen the title 'Scribe of Golden Script'.”
جس کسی نے بھی میرے زرد رنگ کا احوال بیان کیا، اسے غیب کی طرف سے 'زریں رقم' یعنی سونے کے حروف سے لکھنے والے کا خطاب ملا۔
اس شعر میں شاعر نے عشق کے غم اور اس کے وقار کے درمیان ایک لاجواب ربط قائم کیا ہے۔ ہجر کی تپش سے عاشق کا چہرہ زرد یعنی پیلا پڑ جاتا ہے، مگر یہ زردی درحقیقت سونے کی سی چمک اور قیمت رکھتی ہے۔ شاعر کا خیال ہے کہ جس نے بھی میرے زرد رنگ کی کیفیات کو قلمبند کیا، اسے عالمِ غیب سے 'زریں رقم' یعنی سونے کے حروف لکھنے والے کا لقب عطا ہوا۔ اس طرح درد کا بیان محض نوحہ نہیں رہتا بلکہ ایک تابناک اور انمول فن پارہ بن جاتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
