“O Vali, on beholding that rose-bodied beloved in the garden, my hundred-torn heart blossomed into a garden of delight.”
اے ولی، باغ میں اس پھول جیسے بدن والے محبوب کو دیکھ کر میرا سو ٹکڑے دل خوشی سے باغ باغ ہو گیا۔
ولی دکنی اس شعر میں اپنے محبوب کے دلکش حسن کا کمال بیان کر رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ جب اس گلاب جیسے نازک بدن والے محبوب کو چمن میں دیکھا، تو عشق کے صدموں سے سو ٹکڑے ہوا دل بھی خوشی سے کھل اٹھا۔ یہاں 'باغ باغ ہونا' نہایت خوبصورت رعایتِ لفظی ہے، جو یہ ظاہر کرتی ہے کہ یار کا ایک دیدار دل کے سارے زخموں کو بہار کی تازگی عطا کر دیتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
