“Strand by strand, perplexity unravels his heart, / Who bears a madness for her musk-scented locks.”
جس شخص کو محبوب کی مشک جیسی خوشبودار زلفوں کا سودا یا جنون ہے، وہ بال بال یعنی پوری طرح پریشانی اور الجھن میں مبتلا رہتا ہے۔
اس شعر میں لفظ 'پریشانی' کی بڑی دلکش رعایت موجود ہے، کیونکہ پریشانی دل کی بے چینی کو بھی کہتے ہیں اور بالوں کے بکھراؤ کو بھی۔ شاعر کہتے ہیں کہ جسے محبوب کی مشک بار سیاہ زلفوں کا جنون ہو جائے، وہ بال بال اور سراپا اسی طرح بے چین ہو جاتا ہے جیسے وہ گیسو خود بکھرے ہوتے ہیں۔ عشق کی یہ وارفتگی عاشق کے پورے وجود کو محبوب کی زلف کی طرح تڑپ اور الجھن میں مبتلا کر دیتی ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
