तू दयालु, दीन हौं, तू दानि, हौं भिखारी । हौं प्रसिद्ध पातकी, तू पापपुंज-हारी ॥

“You are full of mercy, and I am destitute; You are the gracious giver, and I the beggar pleading. I am a sinner renowned across the world, while You are the redeemer who sweeps away all sins exceeding.”

— تلسی داس
معنی

اے خدا، تو رحم دل ہے اور میں عاجز و محتاج ہوں، تو عطا کرنے والا ہے اور میں فقیر ہوں۔ میں ایک مشہور گناہ گار ہوں اور تو گناہوں کے انبار کو مٹانے والا ہے۔

تشریح

اس کلام میں عاجزی اور بندگی کا وہ رنگ جھلکتا ہے جہاں انسان اپنی انا کو مٹا کر اپنے خالق کے سامنے جھک جاتا ہے۔ شاعر نے کمال خوبصورتی سے تضاد کا سہارا لیا ہے—ایک طرف پروردگار کی بے پایاں رحمت اور سخاوت ہے، تو دوسری طرف بندے کی درماندگی اور فقیرانہ جھولی۔ اپنی خطاؤں کا یہ برملا اعتراف مایوسی نہیں بلکہ بخشش کی امید ہے، گویا ایک گناہ گار اپنے گناہوں کی وسعت کے سامنے خدا کی بے کراں رحمت کو آواز دے رہا ہو۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.