सिर मुकुट, कुंडल तिलक चारु, उदार अंग विभूषणं । आजानुभुज, सरचाप-धर, संग्रामजित-खरदूषणं ॥

“A diadem crowns his head, with lovely ear-pendants and mark, his noble limbs adorned in radiant grace, / Arms reaching to his knees, bow and arrow in hand, the conqueror of Khara and Dushana on the battlefield.”

— تلسی داس
معنی

جن کے سر پر تاج، کانوں میں خوبصورت بالیاں، ماتھے پر تلک اور دلکش اعضا پر زیورات سجے ہیں؛ جن کے بازو گھٹنوں تک دراز ہیں، جو تیر کمان تھامے ہوئے ہیں اور جنگ میں کھر اور دوشن پر فتح پانے والے ہیں۔

تشریح

اس شعر میں شری رام کے حسن و جمال اور ان کی بے مثال شجاعت کا بڑا ہی دلکش مرقع پیش کیا گیا ہے۔ ایک طرف سر پر جگمگاتا تاج، کانوں کے آویزے اور ماتھے کا تلک ان کے سراپے کو بے انتہا دلکشی بخشتے ہیں، تو دوسری جانب گھٹنوں تک پہنچتے طاقتور بازو اور کمان ان کی جنگی مہارت کی گواہی دیتے ہیں۔ شاعر دراصل یہ واضح کرتے ہیں کہ حق کی راہ پر چلنے والی ہستی بیک وقت انتہائی نرم خو، رحیم اور برائی کی تاریکی مٹانے والی بے باک محافظ ہوتی ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.