“O mind, revere the compassionate Sri Ramachandra, the dispeller of worldly sorrow and dreadful fear; whose eyes are like fresh blooming lotuses, whose face is a lotus, and whose hands and red feet are like lotuses.”
اے دل، رحیم شری رام چندر کی حمد کر جو دنیا کے شدید خوف اور دکھوں کو دور کرنے والے ہیں؛ جن کی آنکھیں، چہرہ، ہاتھ اور سرخ پاؤں سب تازَہ کھِلے کنول کی مانند ہیں۔
تلسی داس جی اپنے دل کو بڑی اپنائیت سے سمجھاتے ہیں کہ اُس مہربان رام کی پناہ لو جو دنیا کے تمام دکھوں اور اندیشوں کو دور کر دینے والے ہیں۔ اس شعر میں کنول کے پھول کا دلکش استعارہ باندھا گیا ہے، جہاں پروردگار کی آنکھیں، روشن چہرہ، ہاتھ اور گلابی پاؤں سب تازگی سے کھلے کنول کی طرح پاکیزہ اور نازک ہیں۔ یہ محض ایک حمد نہیں، بلکہ حسن و محبت کے نور میں ڈوب کر اپنی روح کو پُرسکون کرنے کا ایک حسین احساس ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
