“Forsaking bodily anxieties, I shall endure both joy and sorrow with an even mind; says Tulsidas, O Lord, treading this path, I shall attain unwavering devotion unto Hari.”
جسمانی تفکرات کو ترک کر کے میں سکھ اور دکھ کو یکساں طور پر برداشت کروں گا؛ تلسی داس کہتے ہیں کہ اے پربھو، اسی راستے پر چل کر میں آپ کی اٹل اور سچی بھکتی حاصل کروں گا۔
تُلسی داس جی اس خوبصورت کلام میں دنیاوی وسوسوں سے آزاد ہو کر سچی روحانی یکسوئی پانے کی آرزو ظاہر کر رہے ہیں۔ وہ فرماتے ہیں کہ جسم کی فکروں سے دھیان ہٹا کر رنج و راحت دونوں کو ایک ہی نظر سے دیکھنا ہی اصل بصیرت ہے۔ جب انسان دنیا کے نشیب و فراز سے بے نیاز ہو جاتا ہے، تبھی دل میں خدا کی وہ غیر متزلزل اور سچی محبت پروان چڑھتی ہے جو کبھی ماند نہیں پڑتی۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
