“He who holds not Rama and Sita dear, abandon him like a million foes, though he be your most beloved kin.”
جس کو رام اور سیتا عزیز نہ ہوں، اسے کروڑوں دشمنوں کے برابر سمجھ کر چھوڑ دینا چاہیے، چاہے وہ کتنا ہی پیارا کیوں نہ ہو۔
تُلسی داس جی اس کلام میں کمال سادگی اور بیباکی سے سمجھاتے ہیں کہ روحانی سچائی اور عشقِ الٰہی سے بڑھ کر دنیا کا کوئی رشتہ نہیں ہوتا۔ اگر کوئی عزیز ترین شخص بھی آپ کو حق، نیکی اور روحانی پاکیزگی کی راہ سے دور کرے، تو اس کے تعلق کو خیرباد کہہ دینا ہی روح کے لیے بہتر ہے۔ یہ بات ہمیں یاد دلاتی ہے کہ ضمیر اور سچی محبت کے راستے میں دنیاوی رشتوں کا اندھا موہ رکاوٹ نہیں بننا چاہیے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
