“All paths are taught by sacred scripture, yet which god can the humble implore? Says Tulsidas, the cord of delusion—only He who tied it can free the soul once more.”
ویدوں میں نجات کی تمام تدابیر بیان ہیں، مگر یہ بے بس انسان کس کس دیوتا کی منت کرے؟ تلسی داس کہتے ہیں کہ اس روح کو مایا اور موہ کی جس رسی نے باندھا ہے، اسے وہی پروردگار کھول سکتا ہے جس نے اسے باندھا ہے۔
تلسی داس جی اس شعر میں ایک عاجز اور بھٹکے ہوئے انسان کی کیفیت بیان کرتے ہیں، جو ہزاروں راستوں اور دیوتاؤں کے چکر میں الجھ کر تھک چکا ہے۔ وہ دنیاوی مایا اور فریب کو 'موہ رَجو' یعنی ایک ایسی مضبوط رسی سے تشبیہ دیتے ہیں، جس کی گرہ انسان اپنے بل بوتے پر کبھی نہیں کھول سکتا۔ ان کا پیارا فلسفہ یہی ہے کہ جس مالک نے اپنی مایا سے یہ بندھن باندھا ہے، وہی اپنی رحمت سے اسے کھولے گا، اس لیے در در التجائیں کرنے کے بجائے اسی ایک کے حضور سر جھکا دینا ہی نجات ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
