“This turbulent coolness afflicts the heart, restless even in its comfort.Bending and swaying, from every direction it approaches.”
یہ طوفانی ٹھنڈک اس دل کو ستاتی ہے جو سکون میں بھی بے چین ہے۔ یہ ہر سمت سے جھک جھک کر آتی ہے۔
یہ شعر ایک گہرا تضاد پیش کرتا ہے: ایک مضطرب ٹھنڈک جو اس دل کو ستا رہی ہے جو اپنی راحت میں بھی بے چین ہے۔ ایسا لگتا ہے جیسے جب اندرونی طوفان برپا ہو تو سکون بھی بے کلی کا باعث بنتا ہے، اور بیرونی ٹھنڈک مرہم کی بجائے ایک دخل اندازی لگتی ہے۔ یہ خنکی بھری آغوش، جو ہر سمت سے جھک جھک کر آ رہی ہے، تسکین دینے کی بجائے حاوی ہو جاتی ہے، اور ایک گہری بے چینی کو اجاگر کرتی ہے جسے راحت بھی پرسکون نہیں کر سکتی۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
