“The deaf can hear, the mute speaks once more, and a pauper walks beneath a royal canopy; O Surdas, so full of mercy is my Lord, again and again I bow unto His feet.”
ان کی رحمت سے بہرا سننے لگتا ہے، گونگا بولنے لگتا ہے اور کنگال سر پر شاہی چھتر سجا کر چلنے لگتا ہے۔ سورداس کہتے ہیں کہ میں ایسے مہربان اور رحیم مالک کے قدموں میں بار بار سر جھکاتا ہوں۔
سورداس اس شعر میں اپنے رب کے بے پایاں کرم اور رحمت کا نہایت اثر انگیز نقشہ کھینچتے ہیں۔ بہرے کا سننا، گونگے کا بولنا اور ایک مفلس کا سر پر شاہی چھتر تانے چلنا دراصل اس حقیقت کی علامت ہے کہ خدا کا فیض ہر ناممکن کو ممکن بنا دیتا ہے۔ جب رب کی عنایت شاملِ حال ہو تو ادنیٰ ترین روح بھی باوقار اور بلند ہو جاتی ہے، اسی شکر گزاری میں شاعر بار بار اس رحمت والے آستانے پر سر تسلیم خم کرتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
