غزل
جہاں دل بے خوف ہو
جہاں دل بے خوف ہو
یہ نظم ایک مثالی دنیا کا تصور کرتی ہے جہاں لوگ بے خوف اور باخبر ہوں، اور تنگ دیواروں سے تقسیم نہ ہوں۔ یہ ایسی جگہ کی تعریف کرتی ہے جہاں سچ بولا جاتا ہے، انتھک کوششیں کمال کی طرف لے جاتی ہیں، اور دلیل مردہ عادات کے بجائے عمل کی رہنمائی کرتی ہے۔
نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
1
Where the mind is without fear and the head is held high;
Where knowledge is free;
ایک ایسی حالت جہاں لوگوں کا ذہن خوف سے آزاد ہو، ان کا سر فخر سے اونچا ہو، اور علم سب کے لیے آزادانہ طور پر دستیاب ہو۔
2
Where the world has not been broken up into fragments
By narrow domestic walls;
یہ ایک ایسی جگہ یا حالت کی وضاحت کرتا ہے جہاں دنیا تنگ گھریلو دیواروں کی وجہ سے ٹکڑوں میں تقسیم نہیں ہوئی ہے، بلکہ مکمل اور متحد ہے۔
3
Where words come out from the depth of truth;
Where tireless striving stretches its arms towards perfection;
یہ دوہا ایک ایسی حالت بیان کرتا ہے جہاں الفاظ سچائی کی گہرائی سے نکلتے ہیں اور جہاں بے تھکان کوششیں کمال کی طرف بڑھتی ہیں۔
4
Where the clear stream of reason has not lost its way
Into the dreary desert sand of dead habit;
یہ اس حالت کو بیان کرتا ہے جہاں عقل اور شعور کی صاف دھار، پرانی اور بے مقصد عادات کے ویران ریگستان میں بھٹک کر کھو نہیں گئی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ انسان کو اپنی منطقی سوچ کو فرسودہ اور بے جان عادات میں پھنسنے نہیں دینا چاہیے۔
5
Where the mind is led forward by thee into ever-widening thought and action—
Into that heaven of freedom, my Father, let my country awake.
شاعر خدا سے، انہیں باپ کہہ کر مخاطب کرتے ہوئے، دعا کرتا ہے کہ وہ اس کے ملک کو آزادی کی ایسی جنت میں بیدار کرے۔ یہ آزادی ایسی ہو جہاں ذہن ہمیشہ وسیع ہوتے خیالات اور افعال کی طرف بڑھتے رہیں۔
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
