“Thy infinite gifts come to me only on these very small hands of mine. Ages pass, and still thou pourest, and still there is room to fill.”
شاعر اقرار کرتا ہے کہ اللہ کے بے انتہا عطیات اس کے چھوٹے ہاتھوں میں ہی سما پاتے ہیں۔ صدیاں بیت جاتی ہیں اور اللہ مسلسل عطا کرتا رہتا ہے، پھر بھی وصول کرنے کی گنجائش ہمیشہ باقی رہتی ہے۔
یہ دوہا الٰہی کی بے پناہ سخاوت اور ہماری محدود انسانی صلاحیت کے درمیان ایک خوبصورت تضاد پیش کرتا ہے۔ یہ لامتناہی نعمتوں کو ہمارے 'چھوٹے ہاتھوں' میں مسلسل انڈیلنے کی تصویر کشی کرتا ہے، جو ہماری عاجزانہ قبولیت کی علامت ہے۔ صدیوں کے گزرنے اور اس بے کراں عطا کے باوجود، دل اور روح میں ہمیشہ مزید جگہ باقی رہتی ہے، جو یا تو ہماری روحانی بھوک یا الٰہی فضل کو جذب کرنے کی انسانی روح کی لامحدود صلاحیت کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ زندگی میں فراوانی کے مسلسل بہاؤ کی ایک عاجزانہ مگر پرامید یاد دہانی ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
