“Thou hast made me endless, such is thy pleasure. This frail vessel thou emptiest again and again, and fillest it ever with fresh life.”
خدا نے مجھے لافانی بنایا ہے، یہی اس کی مرضی ہے۔ وہ اس کمزور برتن کو بار بار خالی کرتا ہے اور اسے ہر دفعہ نئی زندگی سے بھر دیتا ہے۔
یہ خوبصورت اشعار ہمیں بتاتے ہیں کہ خدا کس طرح اپنی مرضی سے ہمیں لامتناہی بناتا ہے۔ یہ ایسا ہے جیسے ہمارا جسم، جو ایک نازک ظرف ہے، بار بار خالی ہوتا ہے، لیکن الٰہی قوت اسے نئی توانائی اور زندگی سے پھر بھر دیتی ہے۔ یہ ہمیں سکھاتا ہے کہ ہم کبھی فنا نہیں ہوتے، بلکہ ایک لامتناہی بہاؤ کا حصہ ہیں جو ہمیشہ ہمیں آگے بڑھاتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
