“যদি আলো না ধরে, ওরে ওরে ও অভাগা, যদি ঝড়-বাদলে আঁধার রাতে দুয়ার দেয় ঘরে—”
اے بدقسمت، اگر روشنی نہ ہو، اور اگر طوفان و بارش والی اندھیری رات میں گھر کا دروازہ ٹوٹ جائے—
یہ شعر کسی بدقسمت شخص کو بڑے پیار سے مخاطب کرتا ہے، ایک دل دہلا دینے والے لمحے کی جیتی جاگتی تصویر پیش کرتا ہے۔ یہ ایک طوفانی، تاریک رات کا تصور پیش کرتا ہے جہاں گھر کا دروازہ بھی کمزور پڑ سکتا ہے، اور انسان زندگی کے سخت عناصر کے سامنے بے بس ہو جاتا ہے۔ شاعر اس 'بدنصیب' کو ترغیب دے رہا ہے کہ جب تمام بیرونی آرام اور تحفظات غائب ہو جائیں تو اپنے اندر ایک روشنی یا لچک تلاش کرے، بجائے اس کے کہ ایسی بیرونی روشنی کا انتظار کرے جو شاید نہ آئے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
