“সব পাওয়া যদি না পাই, শুধু চলার মাঝেই পাই, এই যাত্রার শেষ নেই— এইটেই আমার আনন্দ॥”
اگرچہ مجھے سب کچھ حاصل نہ ہو، میں اسے صرف سفر کے دوران ہی پاتا ہوں۔ اس سفر کی کوئی انتہا نہیں، اور یہی میری خوشی ہے۔
یہ شعر زندگی کے بارے میں ایک نہایت ہی خوبصورت نقطہ نظر پیش کرتا ہے، ہے نا؟ یہ کہتا ہے کہ سچی خوشی کسی منزل پر پہنچنے یا سب کچھ حاصل کرنے میں نہیں ہے، بلکہ زندگی کے اس سفر میں چلتے رہنے میں ہی ملتی ہے۔ شاعر اس سفر کے کبھی نہ ختم ہونے والے فطرت میں ہی آنند پاتا ہے، جو ہمیں مسلسل جینے اور دریافت کرتے رہنے کے عمل کو گلے لگانے کی ترغیب دیتا ہے۔ یہ ہمیں موجودہ لمحے اور راستے کو ہی خوبصورتی سے سراہنے کی یاد دلاتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
