غزل
میری خوشی اسی راہ تکنے میں ہے
میری خوشی اسی راہ تکنے میں ہے
یہ غزل زندگی کے سفر میں ہی گہری خوشی پانے کا جشن مناتی ہے، نہ کہ کسی منزل مقصود میں۔ یہ انتظار میں، چلنے کے عمل میں اور راستے میں کسی رفیق کی امید میں مسرت تلاش کرنے کی بات کرتی ہے۔ یہ نظم بے انتہا راستے میں اطمینان اور روشنی و تاریکی دونوں کو گلے لگا کر محض آگے بڑھتے رہنے پر زور دیتی ہے۔
نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
1
আমার এই পথ চাওয়াতেই আনন্দ।
চলতে চলতে চলার সাথী পাব এই আশায় আনন্দ॥
اس راہ پر انتظار کرنے میں ہی خوشی ہے۔ چلتے چلتے راستے میں کوئی ساتھی مل جائے گا، اسی امید میں خوشی ہے۔
2
সব পাওয়া যদি না পাই, শুধু চলার মাঝেই পাই,
এই যাত্রার শেষ নেই— এইটেই আমার আনন্দ॥
اگرچہ مجھے سب کچھ حاصل نہ ہو، میں اسے صرف سفر کے دوران ہی پاتا ہوں۔ اس سفر کی کوئی انتہا نہیں، اور یہی میری خوشی ہے۔
3
আলো আছে, আঁধার আছে, পথ আছে চলার,
আমি চলি আমার মতো— এইটেই মোর আনন্দ॥
روشنی ہے، اندھیرا ہے، اور چلنے کے لیے ایک راستہ بھی ہے۔ میں اپنے طریقے سے چلتا ہوں، اور یہی میری خوشی ہے۔
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
