“Having taken my heart, you ask: 'Whose lover are you?' / Forgetting already, cruel one, what will you ever remember?”
میرا دل چھین لینے کے بعد تو پوچھتا ہے کہ تو کس کا عاشق ہے۔ اے ظالم، جب تو ابھی سے سب بھول گیا ہے تو بعد میں کیا یاد رکھے گا۔
اس شعر میں محبوب کی شوخی اور لاپرواہی پر ایک بڑا دلکش اور میٹھا شکوہ کیا گیا ہے۔ محبوب ابھی ابھی دل چرا کر یوں انجان بن بیٹھا ہے جیسے جانتا ہی نہ ہو کہ سامنے والا کس کا دیوانہ ہے۔ عاشق مسکرا کر شکوہ کناں ہے کہ اے ظالم، جب ابتدا ہی میں تیری بے رخی اور بھول پن کا یہ عالم ہے، تو آگے چل کر بھلا تو مجھے خاک یاد رکھے گا۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
