“Ensnared within those flowing locks, my heart met a fortunate fate; it had set out to drown and die in the deep well of her chin.”
یہ اچھا ہی ہوا کہ دل زلفوں میں گرفتار ہو گیا، ورنہ وہ تو محبوب کی ٹھوڑی کے گڑھے میں ڈوب کر مرنے چلا تھا۔
اس شعر میں شاعر نے کلاسیکی شاعری کی دلکش علامتوں کو بڑی شوخی سے برتا ہے۔ دل تو محبوب کی ٹھوڑی کے گڑھے یعنی چاہِ ذقن کے کنویں میں کود کر ڈوب مرنے نکلا تھا، مگر راستے ہی میں اس کی گھنی زلفوں میں الجھ کر گرفتار ہو گیا۔ عاشق اس قید پر خوشی سے شکر ادا کر رہا ہے کہ زلفوں کی اسیری نے اسے موت کے اس اندھے کنویں میں فنا ہونے سے بچا لیا!
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
