“A fragrance of kinship wafts, O Haidar, from the dust of Metiabruz; gathered together in one place are the exiled wanderers of Lucknow.”
اے حیدر! مٹیا برج کی خاک سے انس اور اپنائیت کی خوشبو آتی ہے، کیونکہ اپنے وطن لکھنؤ سے بے گھر اور جلاوطن ہونے والے لوگ یہاں ایک جگہ اکٹھے ہیں۔
جب نواب واجد علی شاہ کو جلاوطن کر کے کلکتہ کے مٹیا برج لایا گیا، تو ان کے ہمراہ لکھنؤ کی تہذیب، فنکار اور بے گھر ہونے والے باسی بھی وہاں جا بسے۔ حیدرؔ کہتے ہیں کہ مٹیا برج کی خاک سے آج بھی اپنے پن اور الفت کی مانوس خوشبو اس لیے آتی ہے، کیونکہ وطن سے جدا ہونے والے تمام درد مند ایک جگہ جمع ہو گئے تھے۔ یہ شعر ہجرت کے کرب اور اپنوں کے درمیان کھوئے ہوئے وطن کو پھر سے پا لینے کے دلی احساس کی خوبصورت عکاسی کرتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
