“You are but a shadow of existence, whence then this self-adoration? A shadow finds its nurturing only in the lap of self-oblivion.”
تم تو اصل ہستی کا محض ایک سایہ ہو، پھر یہ خود پسندی اور غرور کیسا؟ کسی سائے کی پرورش تو صرف بے خودی کے دامن میں ہی ممکن ہے۔
شاعر یہاں انسان کی بے ثباتی کا احساس دلاتے ہوئے کہتے ہیں کہ ہماری حیثیت تو اصل حقیقت کی بس ایک پرچھائیں کی سی ہے، پھر یہ انا اور خود پرستی کیسی؟ سایہ کبھی اپنی ذات میں مکمل نہیں ہو سکتا، اس کا اصل حسن ہی خود کو مٹا دینے میں ہے۔ روح کی سچی نشوونما اور بالیدگی بھی اسی میں ہے کہ انسان اپنی ذات کے خول سے نکل کر بے خودی کے دامن میں پناہ لے لے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
