“If they themselves inquire of my state, summoning me to their presence, / Who knows what words might slip from my tongue in the trance of self-oblivion?”
اگر محبوب مجھے اپنے سامنے بلا کر میرا حال پوچھے، تو کون جانے کہ بے خودی کی حالت میں میری زبان سے کیا نکل جائے۔
ذرا سوچیے کہ محبوب خود سامنے بلا کر آپ کا حال دریافت کرے، تو عاشق کے ہوش و حواس پر کیا گزرے گی! شاعر اسی والہانہ کیفیت اور گھبراہٹ کو بیان کر رہا ہے کہ محبوب کے اس قدر قریب جانے پر سارا ضبط کھو جائے گا۔ اس مدہوشی اور بے خودی کے عالم میں زباں پر کوئی قابو نہیں رہے گا، نہ جانے دل کا کون سا پوشیدہ راز یا شکوہ بے اختیار لبوں پر آ جائے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
