“Such a good night has not come in my destiny, how can I, the joyful one, sustain it?My foot-taps falter in their rhythm, and with my hands, I could not play the sitar well.”
ایسی اچھی رات میرے نصیب میں نہیں آئی ہے، تو میں خوش مزاج ہو کر اسے کیسے برقرار رکھوں؟ میرے پاؤں کی تال بگڑ جاتی ہے اور میں اپنے ہاتھوں سے ستار بھی ٹھیک سے نہیں بجا سکی۔
یہ دوہا ایک شاداب روح کے اس پُرملال احساس کو خوبصورتی سے بیان کرتا ہے جو ایک مبارک لمحے کا انتظار کرتی ہے مگر وہ نہیں آتا۔ اپنی رنگیلی طبیعت کے باوجود، کہنے والا محسوس کرتا ہے کہ اگر قسمت میں ایسی 'سُراتری' (اچھی رات) نہ ہو تو وہ اپنی خوشی کو کیسے برقرار رکھے۔ لڑکھڑاتے قدموں اور بے سُری ستار کی روشن مثال یہ بتاتی ہے کہ کیسے بیرونی حالات کسی کی اندرونی مسرت اور اظہار کو دبا سکتے ہیں، یہاں تک کہ جشن کے عام سے کام بھی وقار کے ساتھ کرنا ناممکن ہو جاتا ہے۔
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
