“Words, from afar, become sweet to the fisher's ear,The wind comes rustling again, who knows that joy so clear?”
دور سے آتے الفاظ مچھیرا کے کانوں کو میٹھے لگتے ہیں، اور ہوا پھر سے سرسراہٹ کے ساتھ آتی ہے۔ اس خوشی کو کون جان سکتا ہے؟
یہ خوبصورت شعر فطرت میں پائی جانے والی سادہ مگر گہری خوشی کی تصویر پیش کرتا ہے۔ یہ بتاتا ہے کہ جس طرح دور سے آنے والی آوازیں ایک ماہی گیر کے حساس کانوں کو میٹھی لگتی ہیں، شاید کسی اچھی خبر یا ساتھی کی امید میں، اسی طرح ہوا کی سرسراہٹ میں بھی ایک گہرا لطف ہے۔ شاعر حیران ہے کہ اس پرسکون، بار بار آنے والی مسرت کو کون واقعی سمجھتا ہے، جو قدرتی دنیا سے اتنے قریب سے جڑے رہنے سے حاصل ہوتی ہے۔ یہ ہمیں اپنی مصروف زندگی میں اکثر نظر انداز ہونے والے باریک لمحوں اور آوازوں کو سراہنے کی ایک دلکش یاد دہانی ہے۔
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
