آہ کے تیں دل حیران و خفا کو سونپا — میر تقی میر

آہ کے تیں دل حیران و خفا کو سونپا میں نے یہ غنچۂ تصویر صبا کو سونپا

“To the heart, bewildered and distressed, I entrusted this tender flower of beauty; I also entrusted this blossom of memory to the dawn.”

— میر تقی میر

معنی

آہ کے تِین دل-ے حیران و خفا کو سُنما، میں نے یہ گُंचा-ے تصویر صبا کو سُنما۔ (مطلب: جو دل حیران اور غمگین ہے، اسے میں نے یہ پھول سونپا، اور یہ یاد کی خوبصورتی کا کلی سا تصویر نے صبح کو سونپا۔)

تشریح

मिर्ज़ा तक़ी मीर इस शेर में दिल को एक कोमल कली سے تشبیہ دیتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ جس طرح انہوں نے یہ گلاب کی کالی صبح کی ہوا کو سونپ دی، اسی طرح انہوں نے اپنے پریشان اور ناراض دل کو بھی رشتوں اور حالات کے سپرد کر دیا ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوت
ہندی معنی
انگریزی معنی
ہندی تشریح
انگریزی تشریح
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.