غزل
आह के तीं दिल-ए-हैरान-ओ-ख़फ़ा को सौंपा
आह के तीं दिल-ए-हैरान-ओ-ख़फ़ा को सौंपा
یہ غزل وِصال اور جذباتی سرِ تسلیم کی کیفیت بیان کرتی ہے، جس میں شاعر اپنے دل اور جذبات کو کسی اجنبی یا محبوب کے سپرد کرنے کی بات کرتا ہے۔ یہ عشق میں مایوسی اور دھوکہ دہی کا اظہار ہے، جو بالآخر الٰہی سپردگی کی طرف اشارہ کرتا ہے۔
نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
1
आह के तीं दिल-ए-हैरान-ओ-ख़फ़ा को सौंपा
मैं ने ये ग़ुंचा-ए-तस्वीर सबा को सौंपा
آہ کے تِین دل-ے حیران و خفا کو سُنما، میں نے یہ گُंचा-ے تصویر صبا کو سُنما۔ (مطلب: جو دل حیران اور غمگین ہے، اسے میں نے یہ پھول سونپا، اور یہ یاد کی خوبصورتی کا کلی سا تصویر نے صبح کو سونپا۔)
2
तेरे कूचे में मिरी ख़ाक भी पामाल हुई
था वो बे-दर्द मुझे जिन ने वफ़ा को सौंपा
تیرے کوچے میں میری خاک بھی گندی ہو گئی، ان بے درد لوگوں کی وجہ سے جنہوں نے مجھے وفا کا بھروسہ دیا।
3
अब तो जाता ही है का'बे को तो बुत-ख़ाने से
जल्द फिर पहुँचियो ऐ 'मीर' ख़ुदा को सौंपा
اب تو جاتا ہی ہے کا'بہ کو تو بت خانے سے؛ جلد پھر پہنچیے اے 'میر' خدا کو سُنپو۔
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
