بندے تو طرحدار وہیں طرح کش تمہارے — میر تقی میر
“The people are just like you, just like you are; what more do you desire? Is there no God now?”
معنی
بندے تو طرحدار وہیں طرح کس تمہارے، پھر چاہتے ہو کیا تم اب اک خدا رہا ہے؟ اس کا لغوی مطلب ہے کہ انسان تو تمہارے جیسے ہی ہیں، تو پھر تم اب کیا چاہتے ہو؟ کیا کوئی خدا باقی نہیں رہا؟
تشریح
یہ شعر انسانی فطرت کی بے ثباتی پر سوال اٹھاتا ہے۔ میر تقی میر کہتے ہیں کہ انسان تو ویسے ہی عیوب سے خالی نہیں ہو سکتا۔ تو پھر تم کیا چاہتے ہو؟ کیا اب کوئی خدا مل گیا ہے؟ یہ دراصل بہت گہرا تنقید ہے، کہ انسانوں سے کمال کی توقع رکھنا کتنا مشکل ہوتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
