مہر کی تجھ سے توقع تھی ستم گر نکلا — میر تقی میر

مہر کی تجھ سے توقع تھی ستم گر نکلا موم سمجھے تھے ترے دل کو سو پتھر نکلا

“I thought your heart was soft and gentle, O cruel one; I thought it was wax, but it turned out to be stone.”

— میر تقی میر

معنی

شاعؔر کہتا ہے کہ اسے لگا تھا کہ تمہارا دل نرم اور ملائم ہے، مگر وہ پتھر جیسا سخت نکلا۔

تشریح

اس شعر میں شاعر میر تقی میر نے محبت میں ملے دھوکے کا دکھ بیان کیا ہے۔ شاعر نے پہلے سمجھا تھا کہ محبوب کا دل نرم و ملائم ہے، جیسے موم۔ مگر حقیقت یہ تھی کہ وہ پتھر جیسا سخت نکلا۔ توقع اور دردناک حقیقت کے درمیان یہ تضاد عاشق کے گہرے جذباتی صدمے کو نمایاں کرتا ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوت
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنی
ہندی تشریح
انگریزی تشریح
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.