“Though I dwell secluded in a quiet corner among poets, O Mir, yet the clamor of my verse has conquered the entire face of the earth.”
اے میر، اگرچہ میں شاعروں کے درمیان گوشہ نشین اور تنہا رہتا ہوں، لیکن میری شاعری کی دھوم اور شور نے ساری دنیا کو گھیر لیا ہے۔
میرؔ اس شعر میں ایک دلکش تضاد بیان کر رہے ہیں کہ وہ خود تو گوشہ نشین اور تنہائی پسند ہیں، لیکن ان کی شاعری کا اثر عالمگیر ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ شاعروں کی محفلوں سے دور ایک گوشے میں الگ تھلگ رہنے کے باوجود، ان کے کلام کے درد، شور اور جذبے نے پوری دنیا پر اپنا سکہ جما لیا ہے۔ یہ شعر دراصل اس حقیقت کا گواہ ہے کہ جب فن سچے دل اور روح کی گہرائی سے جنم لیتا ہے، تو وہ بند کمروں سے نکل کر ہر دل کی آواز بن جاتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
