ہو جو منت سے تو کیا وہ شب نشینی باغ کی
کاٹ اپنی رات کو خار و خس گلخن جلا
“If not by pleading, then even the night-spent garden's pleasure, Let him burn his night with the thorns and musk of the fragrant rose.”
— میر تقی میر
معنی
اگر منّت سے نہیں، تو وہ شب نشینی باغ کی اپنی رات کو خوشبو دار گل خون کے کانٹوں اور مسک سے جلا دے۔
تشریح
یہ شعر عشق کے شدید جذبات کی عکاسی کرتا ہے۔ شاعر کہہ رہے ہیں کہ میری کوئی بھی گزارش یا মিনতি، اس شب نشینی کے باغ کی طاقت کے سامنے کیا حیثیت رکھتی ہے۔ وہ اپنے محبوب کو حکم دیتے ہیں کہ اپنی رات کو اس خوشبودار باغ کے کانٹوں اور مسک سے جلا دے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
تلاوت
ہندی معنی
انگریزی معنی
ہندی تشریح
انگریزی تشریح
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
