شوخیٔ چشم کا تو کس کی ہے دیوانہ انیسؔ آنکھیں ملتا ہے جو یوں نقش کف آہو سے

“Whose mischievous eyes have made you such an ardent captive, Anees, that you rub your eyes so tenderly against the footprints of the gazelle?”

— میر انیس
معنی

اے انیس، تو کس کی شوخ آنکھوں کا ایسا دیوانہ ہے کہ ہرن کے پاؤں کے نشان سے اس طرح اپنی آنکھیں مل رہا ہے؟

تشریح

انیسؔ نے اس شعر میں عشق کی وارفتگی اور دیوانگی کا ایک نہایت لطیف اور خوبصورت منظر پیش کیا ہے۔ اردو شاعری میں شوخ اور دلربا آنکھوں کی تشبیہ ہمیشہ ہرن (آہو) کی آنکھوں سے دی جاتی ہے، اور عاشق اپنے محبوب کی نگاہوں پر اس قدر فدا ہے کہ اس سے ملنے والے جنون میں ہرن کے قدموں کے نشانوں سے اپنی آنکھیں مل رہا ہے۔ گویا وہ اس خاک کو اپنی آنکھوں کا سرما اور سکون بنا لینا چاہتا ہے جس سے کسی شوخ ادا کی خوشبو وابستہ ہو۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.