ایک دن وہ تھا کہ تکیہ تھا کسی کا بازو
اب سر اٹھتا ہی نہیں اپنے سر زانو سے
“There was once a day when my pillow was a lover's arm; now my head never rises from resting upon my own knee.”
— میر انیس
معنی
ایک زمانہ تھا جب کسی کا بازو میرا تکیہ ہوا کرتا تھا، لیکن اب غم کی حالت میں میرا سر اپنے ہی گھٹنوں سے نہیں اٹھتا۔
تشریح
یہ شعر ماضی کی دلکش قربت اور حال کی اداس تنہائی کے دردناک تضاد کو پیش کرتا ہے۔ ایک دور تھا جب محبوب کے بازو پر سر رکھ کر بے فکری، چاہت اور سکون میسر تھا۔ اب رنج و الم کا یہ عالم ہے کہ انسان گھٹنوں میں سر ڈالے خود اپنے دکھ کا بوجھ اٹھائے ہوئے ہے، جو کہ بے بسی اور ماتم کی خاموش تصویر ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
